حیدرآباد، 25؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ ہندوستان کے سب سے امیر مسلم اوقافی اداروں میں سے ایک ہے جس کے اثاثوں کی مالیت کم از کم 5 لاکھ کروڑ روپے ہے، لیکن اس کے اثاثے صرف کاغذ پر ہیں۔ ایک سنسنی خیز انکشاف کے مطابق 75 فیصد اوقافی اراضی پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔
اس خبر کی تصدیق کرتا ہے نہ ہی تکذیب لیکن جس طرح کے حالات اوقافی اراضی کے تعلق سے پائے جارہے ہیں اس میں اس طرح کی سنسنی خیز خبریں حیران کن ہیں حالانکہ اس پوری رپورٹ میں کہیں بھی انکشاف کرنے والی کوئی ایجنسی یا ادارے کا نام نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ خبر قابل توجہ ہے۔ وقف بورڈ میں کئی دہائیوں کی بدعنوانی، بدانتظامی اور بے ضابطگیوں اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی بے حسی نے حیدرآباد اور ریاست کے دیگر حصوں میں اس کی اہم جائیدادوں کی تباہی اور تجاوزات کو خاموش تماشائی بنا رکھا ہے۔
مسلم اوقافی ادارے کے پاس بہت سی جائیدادوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے جو تجاوزات کے تحت ہیں اور جو کچھ ہے اس کی حفاظت کیلئے یا کرایہ کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے اختیارات سے محروم ہے۔جبکہ حیدرآباد اور اس کے اطراف میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران زبردست معاشی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں، وقف بورڈ نے یکے بعد دیگرے کئی بڑی جائیدادیں کھو دی ہیں۔ کچھ معاملات میں تو حکومت بھی وقف اراضی پر قبضہ کرتی ہوئی پائی گئی۔ریاست میں 33,929وقف ادارے ہیں جن کا کل اراضی 77,538ایکڑ ہے۔ تاہم، امیر اراضی کے تین چوتھائی حصے (57,428ایکڑ)پر تجاوزات ہیں۔اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی ملکیت میں موجود وسیع دولت کو دیکھتے ہوئے وہ بے سہارا لوگوں کی دیکھ بھال اور مسلم کمیونٹی کی تعلیمی ضروریات کو آسانی سے پورا کر سکتا ہے۔تاہم صورتحال یہ ہے کہ بورڈ اپنے ملازموں کو تنخواہوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کیلئے فنڈز کیلئے حکومت پر منحصر ہے۔بورڈ کا اصل میں 20,110ایکڑ پر کنٹرول ہے لیکن بمشکل 5کروڑ روپے کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔ بہت سے کرایہ دار یا تو کرایہ ادا نہیں کرتے، یا وہ کرایہ ادا کرتے ہیں جو دہائیوں پہلے طے کیے گئے تھے۔
آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد کئی وقف املاک سے متعلق ریکارڈ بھی غائب ہوگیا۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ ملازموں کے ایک حصے نے مبینہ طور پر تجاوزات کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کی۔وہ تجاوزات ہٹانے کا کام کرنے کی بجائے تجاوزات کے خلاف شکایات کی معلومات لیک کرکے ان کی مدد کررہے ہیں۔متحدہ آندھرا پردیش کی سابقہ حکومتوں کی طرح تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت نے بھی وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔2017میں حکومت نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کو اس بنیاد پر سیل کر دیا کہ ریکارڈ کی حفاظت ضروری ہے۔ تاہم، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس اقدام سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے کیونکہ بورڈ کے پاس جاری عدالتی مقدمات لڑنے کیلئے ریکارڈ تک رسائی نہیں ہے۔کچھ لوگ اسے دیمک کے سامنے رکھ کر ریکارڈ کو تباہ کرنے کی سازش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ریکارڈ روم کو اچانک سیل کیے جانے کے بعد ریکارڈ کی حفاظت کیلئے صفائی یا اینٹی فنگ۔ فنگل آپریشن نہیں کیا۔گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر را ؤنے ریاست بھر میں وقف املاک کی مبینہ تجاوزات کی سی آئی ڈی جانچ کا حکم دیا تھا، لیکن اس سلسلے میں شاید ہی کوئی پیش رفت ہوئی ہو۔